بھیڑ/ بکریوں کی متعدد بیماریاں علامات اور علاج

بھیڑ/بکریوں کی متعددی بیماریاں درج ذیل ہیں


(1)انتھراکس (پھڑکی):
علامات :
تیز بخار ۔ پژمردگی۔ کانوں کا ڈھلک جانا۔ دانتوں کا پیسنا۔ زمین پر گرنا اور شدت سے تڑپنا۔ مرنے پر منہ ۔ ناک اور پیشاب اور گوبر کے راستے سے سیاہ رنگ کا خون آنا جو کہ جمتا نہیں ۔
علاج :
(1)جانوروں کو سال میں ایک مرتبہ حفاظتی ٹیکے ماہ فروری میں لگوئیں۔
(2) اکثر علاج کا موقع نہیں ملتا۔ بیمار جانوروں کا علاج اینٹی بائیوٹک کے استعمال سے مفید رہتا ہے۔

#Anthrax virus

نوٹ: مرے ہوئے جانور کا پوسٹ ماٹم ہرگز نہ کریں۔ بلکہ گہرے گڑھا کھود کر چونا ڈال کر دفن کر دیں۔

(2) انٹاروٹاکسیمیا (انٹڑیوں کا زہر)::
علامات :
بخار ۔ لڑکھڑانا۔ جبڑوں کا چبانا ۔ بعض اوقات اپھارہ۔ شدید حالت میں سر کا جھٹکنا۔ لرزہ اور تشنج کے دورے۔ پوسٹ ماٹم کرنے پر تین چوتھائی معدہ ۔ انتڑیاں اور جگر خون سے بھرے ہوئے ملتے ہیں۔
علاج ::
(1)سال میں دو مرتبہ مئی اور نومبر میں حفاظتی ٹیکہ لگوئیں۔
(2) “” سلفامیزاتھین “” 1/3 %33 سلوشن (15 تا 20 سی سی) 20ملی لیٹر پانی میں ملا کر 12 سے 18 گھنٹے کے وقفے سے پانچ یوم پلائیں ۔
نوٹ :: حاملہ جانوروں کو بچے کی پیدائش سے دو ماہ قبل حفاظتی ٹیکہ ضرور لگوائیں۔

(3)کنٹی خینئس کیپرئن پلورونمونیا (متعدی نمونیا) ::
علامات ::
جانوروں کآ جسم سمیٹ کر بیٹھنا۔ سانس لینے میں دشواری ۔ سانس لینے کے دوران چیخ کی آواز کا نکالنا۔ جانور کا تیز تیز کھانسنا۔ اور جلد کمزور ہو جانا۔
علاج ::
(1) سال میں دو بار مئی اور نومبر میں حفاظتی ٹیکہ لگوائیں۔

(2) انجکشن “ٹرائی برسن ” 5 سے 7 سی سی صبح و شام 5 یوم تک لگائیں۔

کنٹی جینئس پسچولرڈرمیٹائٹس (منہ کا پکنا) ::
علامات:
کھانے میں بے رغبی ۔ ہونٹوں پر چھالے جو بعد میں کھرنڈ بن جاتے ہیں۔ شدید حالت میں بخار اور جسم کے باقی حصوں میں بھی دانے نکل آتے ہیں۔
علاج :
(1)حفاظتی ٹیکے سال میں دو مرتبہ اپریل اور اکتوبر میں لگوائیں۔
(2) پوٹاشیم پرمینگیٹ (پنکی) 0۰1 فیصد محلول سے ہونٹوں کے چھالوں کو صاف کریں۔
اور “گلسرین” اور “جنشن وائلٹ” ملا کر لگانے سے کھرنڈ کے زخم مندمل ہو جاتے ہیں۔
(3) چونے کا پانی ایک فیصد ۔ نوشادر کا سیر شدہ محلول ایک حصہ ۔ اور سرسوں کا تیل ایک حصہ ملا کر زخموں پر لگائیں۔
(4) بخار میں “کمبائیٹک” کا ایک گرام ٹیکہ تین چار یوم لگائیں۔

(5) شیپ/گوٹ پاکس (چیچک):
علامات :
تیز بخار ۔ آنکھوں پر ورم۔ جسم پر چیچک کے دانے جو کہ بغیر بالوں والے حصوں پر زیادہ ہوتے ہیں۔ شدید بیماری کی صورت میں اندرونی اعضاء تک پھیل جاتے ہیں۔ جس سے جانور کو سانس لینے میں دشواری محسوس کرتا ہے۔
علاج :
(1) بھیڑ/بکریوں کو سال میں 2 مرتبہ مارچ اور ستمبر (2) میں حفاظتی ٹیکہ لگوائیں۔ اور بچوں کو تھنوں سے دودھ نہ پلائیں۔
(2) زخموں پر “بورک ایسڈ” کا مرہم لگائیں۔ اور بخار کی صورت میں “کمبائیٹنگ” ایک گرام کا ٹیکہ روزانہ 4 تا 6 یوم لگائیں۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *